اللہ کی حکمت پر یقین: الٰہی تدبیر، تسلیم و رضا اور ایمانی پختگی | قسط 195 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover the importance of trusting Divine Wisdom (Hikmat-e-Ilahi), contentment with Allah's decree (Tasleem-o-Raza), prophetic guidance, and inner peace by Dr. Wajid Irshad."


اللہ کی حکمت پر یقین: الٰہی تدبیر، تسلیم و رضا اور ایمانی پختگی
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 195)
1۔ تمہید (Introduction)
اسلامی عقیدے کا ایک انتہائی بنیادی اور اہم ترین ستون اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، اور اس کی حکمتِ بالغہ پر کامل یقین رکھنا ہے۔ اللہ رب العزت نہ صرف اس تمام کائنات کا خالق و مالک ہے، بلکہ وہ "الحکیم" (کامل حکمت والا) اور "العلیم" (سب کچھ جاننے والا) بھی ہے۔ اس کائنات کے ذرے ذرے کی تخلیق، نظامِ شمسی کی گردش، انسانی زندگی کے واقعات، خوشی و غمی کے ایام اور نفع و نقصان کے تمام فیصلے الٰہی حکمت کے عین مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ انسان کا علم، عقل اور بصیرت انتہائی محدود ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم اور حکمت لامحدود اور کامل ہے۔
انسانی زندگی میں بسا اوقات ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو ظاہری طور پر انسان کو ناگوار، تکلیف دہ یا اپنے مفاد کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ناقص عقل اور کمزور ایمان کا حامل انسان پریشانی، شکوہ اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، خالص عقیدۂ توحید سے منور مؤمن کا دل اس بات پر کامل اطمینان رکھتا ہے کہ اس کے رب کا کوئی بھی فیصلہ حکمت، عدل اور رحم سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی بات انسان کی خواہش کے خلاف بھی ہو رہی ہو، تب بھی اس میں بندے کی کوئی نہ کوئی پوشیدہ خیر اور بہتری چھپی ہوتی ہے جسے محض انسانی عقل فوری طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی حکمت پر یقین رکھنے کا حقیقی عقائدی مفہوم کیا ہے؟ قرآنی و نبوی دلائل کی روشنی میں اس تسلیم و رضا کا کیا مقام ہے؟ اور یہ یقین انسان کو زندگی کی بے چینیوں سے نکال کر حقیقی سکونِ قلب کی دولت کیسے عطا کرتا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و عقائدی محاکمہ کریں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی میں رب العزت نے اپنی حکمتِ کاملہ اور انسانی علم کی محدودیت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورۃ البقرۃ: 216)
اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ(سورۃ یونس: 107)
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ کسی خیر کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی لوٹانے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے ارشاداتِ عالیہ سے امّت کو الٰہی تدبیر اور تقدیر کی حکمتوں پر کامل اطمینان رکھنے کا درس دیا:
• تقدیر اور الٰہی فیصلے پر رضا کا مقام
عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ..." (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2999)
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے؛ اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، وہ اس کے لیے خیر بن جاتی ہے؛ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔
• رب کی تقسیم پر راضی رہنے کی فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "...وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ"
(جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2305، علامہ البانی نے اسے حسن کہا ہے)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ...اور اللہ کی کی ہوئی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، تم لوگوں میں سب سے زیادہ غنی (بے نیاز) بن جاؤ گے۔
4۔ ظاہری بے چینی اور عقیدۂ حکمتِ الٰہی کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
الٰہی حکمت پر یقین رکھنے اور محض ظاہری حالات کو دیکھنے کے درمیان یہ بنیادی علمی و عقائدی فرق ہے:
1۔ حالات کی تائید:
ظاہری و مادی طرزِ فکر (Materialistic Mindset): صرف ظاہری اسباب اور فوری نتائج کو دیکھنا۔
عقیدۂ حکمتِ الٰہی پر یقین (Faith in Divine Wisdom): الٰہی تدبیر، غیبی حکمت اور ابدی انجام پر نظر رکھنا۔
2۔ تکلیف پر ردِعمل:
ظاہری و مادی طرزِ فکر (Materialistic Mindset): بے صبری، گلہ شکوہ، افسردگی اور شدید ذہنی تناؤ۔
عقیدۂ حکمتِ الٰہی پر یقین (Faith in Divine Wisdom): تسلیم و رضا، صبر، اور "الحمد للہ" کہنا۔
3۔ ناکامی کا تصور:
ظاہری و مادی طرزِ فکر (Materialistic Mindset): نقصان، محرومی اور تقدیر سے مسلسل شکایت۔
عقیدۂ حکمتِ الٰہی پر یقین (Faith in Divine Wisdom): آزمائش، باطنی تربیت اور بہتر نعم البدل کی امید۔
4۔ باطنی حالت:
ظاہری و مادی طرزِ فکر (Materialistic Mindset): بے چینی، خوف، اور آئندہ کے ناگوار اندیشے۔
عقیدۂ حکمتِ الٰہی پر یقین (Faith in Divine Wisdom): سکونِ قلب، اطمینان اور کامل توکل۔
5۔ اللہ کی حکمت پر یقین پختہ کرنے کے 5 عملی اور عقائدی طریقے (Strategies)
اپنی عملی اور فکری زندگی میں عقیدۂ حکمتِ الٰہی کو مضبوط کرنے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:
الف) "اسمِ الٰہی" الحکیم اور العلیم کا دھیان:
اس بات پر پختہ تدبر کریں کہ اللہ کے تمام فیصلے علم اور حکمت پر مبنی ہیں، وہ غلطی یا بھول چوک سے پاک ہے۔
ب) حضرت موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعے پر غور:
سورۃ الکہف میں بیان کردہ واقعے (کشتی کا توڑنا، بچے کا قتل، دیوار کی تعمیر) پر غور کریں کہ بظاہر ناگوار واقعات کے پیچھے کتنا بڑا خیر چھپا تھا۔
ج) اپنی ماضی کی زندگی پر نظر ثانی:
اپنے ماضی کے ان واقعات کو یاد کریں جنہیں آپ اپنے لیے برا سمجھتے تھے لیکن بعد میں وہی چیزیں آپ کے لیے فائدے کا باعث بنیں۔
د) دعا اور استخارہ کا استمرار:
ہر فیصلے میں اللہ سے خیر مانگیں اور مسنون دعا کے ذریعے معاملات رب کے سپرد کرنے کی عادت ڈالیں۔
ہ) صبر اور تسلیم و رضا کا اختیار:
جب کوئی ناگوار حادثہ پیش آئے تو جزع فزع کے بجائے فوراً کہیں: قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ (یہ اللہ کی تقدیر ہے اور اس نے جو چاہا کیا)۔
6۔ تسلیم و رضا اور عقیدۂ حکمت کا سچا معیار کیا ہے؟
روزمرہ کی عملی زندگی میں الٰہی حکمت پر سچے یقین کا معیار یہ ہے کہ:
انسان تمام ممکنہ جائز اسباب استعمال کرنے کے بعد جو بھی نتیجہ نکلے، اس پر دل سے راضی ہو جائے۔
دعاؤں کی فوری قبولیت نہ ہونے پر اللہ سے گلہ کرنے کے بجائے یہ سمجھے کہ تاخیر میں ہی اس کے لیے خیر ہے۔
دوسروں کی نعمتوں یا اپنی محرومیوں پر حسد یا شکایت کرنے کے بجائے رب کی تقسیم پر شاکر رہے۔
7۔ عقیدۂ حکمتِ الٰہی پر یقین کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان اللہ تعالیٰ کی حکمت پر کامل یقین قائم کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:
قلبی سکون اور اطمینانِ روح: ایسا شخص تمام دنیاوی اندیشوں، حسرتوں اور افسردگی سے آزاد ہو کر سچا قلبی سکون حاصل کرتا ہے۔
اللہ کی خاص قربت اور محبت: رب کی رضا پر راضی رہنے والے بندے سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاتا ہے (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ)۔
بہترین نعم البدل: جو بندہ الٰہی فیصلے پر صبر کرتا ہے، اللہ اسے دنیا و آخرت میں اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر یقین رکھنا ایمان کی روح اور قلبی سکون کی چابی ہے۔ یہ دنیا ہماری خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ ہمارے رب کی حکمت اور تدبیر کے مطابق چلتی ہے۔ ایک مؤمن کا کام یہ ہے کہ وہ ظاہری حالات کے طوفانوں میں بھی اپنے رب کی رحمت اور تدبیر پر کامل اعتماد رکھے۔ آئیے! ہم اپنے دلوں کو تسلیم و رضا کے نور سے منور کریں اور ہر حال میں اپنے مالکِ حقیقی کی حکمتوں پر راضی رہنے کا عزم کریں۔ جب دل الٰہی تدبیر پر مطمئن ہو جائے گا تو دنیا کا کوئی غم انسان کا سکون نہیں چھین سکے گا۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ رَضِّنِي بِقَضَائِكَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا قُدِّرَ لِي، حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ
اے اللہ! مجھے اپنے فیصلے پر راضی کر دے، اور میرے لیے اس میں برکت فرما جو میرے لیے مقدر کیا گیا ہے، تاکہ میں اس چیز میں جلدی نہ چاہوں جسے تو نے مؤخر کیا، اور نہ اس میں تاخیر چاہوں جسے تو نے جلدی کیا۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلے کے بعد تسلیم و رضا کا سوال کرتا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
اللہ کی حکمت اور تسلیم و رضا کا یہ عقائدی پیغام کسی پریشان اور غم زدہ انسان کے لیے قلبی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
