اللہ کی طرف رجوع: کب اور کیسے؟ | قسط 201 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore the spiritual journey of returning to Allah (Rujoo ilallah), sincere repentance (Tawbah), its timing, key steps, and divine rewards by Dr. Wajid Irshad."


اللہ کی طرف رجوع: کب اور کیسے؟
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 201)
1۔ تمہید (Introduction)
انسان اپنی طبعی کمزوری، دنیاوی مشغولیتوں اور نفسانی خواہشات کے باعث اکثر اوقات صراطِ مستقیم سے بھٹک جاتا ہے۔ جب گناہوں کی سیاہی، مصائب کا بوجھ اور باطنی بے چینی انسان کو گھیر لیتی ہے، تو اس کی روح سکون اور نجات کی تلاش میں تڑپ اٹھتی ہے۔ ایسے تمام حالات میں رب العزت کا درِ رحمت ہی واحد ملجا و ماویٰ ہے جہاں انسان کو سچا سکون، مغفرت اور نئی زندگی ملتی ہے۔ اللہ کی طرف لوٹنے اور سچی توبہ کرنے کو اسلام کی اصطلاح میں "انابت" یا "رجوع الی اللہ" کہا جاتا ہے۔
رجوع الی اللہ محض زبانی الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی کامل تبدیلی، گناہوں پر ندامت، اور اپنے خالق و مالک کے حضور مکمل تسلیم و رضا کا نام ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ کی طرف رجوع کب کرنا چاہیے؟ اس مبارک سفر کے عملی اور شرعی مراحل کیا ہیں؟ اور قرآن و سنت اس باطنی انقلاب کے لیے کیا لائحہ عمل فراہم کرتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و اصلاحی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی میں رب العزت نے اپنے بندوں کو فوراً اپنے در پر لوٹنے اور سچی توبہ اختیار کرنے کا واضح حکم دیا ہے:
وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (سورۃ الزمر: 54)
اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا (سورۃ التحریم: 8)
اے ایمان والو! اللہ کے حضور سچی اور خالص توبہ کرو۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کے مبارک ارشادات رجوع الی اللہ کی اہمیت اور الٰہی رحمت کی وسعت کو واضح کرتے ہیں:
گناہ گاروں میں بہترین شخص
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ" (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2499)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام انسان خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو بار بار توبہ اور رجوع کرنے والے ہیں۔
توبہ پر رب کی خوشی
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ..."
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6309 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2747)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنی خوشی کسی شخص کو صحرا میں گُم شدہ اونٹ واپس ملنے پر ہوتی ہے۔
4۔ غفلت کی زندگی اور رجوع الی اللہ کی حالت کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
غفلت میں مبتلا زندگی اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بندے کے درمیان یہ بنیادی علمی و روحانی فرق ہے:
1۔ باطنی سمت:
غفلت میں مبتلا زندگی: نفسانی خواہشات، مادی مفادات اور دنیاوی حب۔
رجوع الی اللہ کی حالت: رضائے الٰہی، فکرِ آخرت اور اتباعِ سنت۔
2۔ گناہ پر رویہ:
غفلت میں مبتلا زندگی: گناہ پر ڈٹ جانا، تاویلیں بنانا اور بے باکی۔
رجوع الی اللہ کی حالت: دل کی تڑپ، فوری ندامت اور استغفار۔
3۔ مشکلات میں سہارا:
غفلت میں مبتلا زندگی: محض مادی اسباب اور مخلوق پر اندھا بھروسہ۔
رجوع الی اللہ کی حالت: رب العزت کی ذات پر کامل توکل اور دعا۔
4۔ قلبی کیفیت:
غفلت میں مبتلا زندگی: دائمی بے چینی، خوف اور اینگزائٹی۔
رجوع الی اللہ کی حالت: اطمینانِ قلب، روحانی سکون اور شرحِ صدر۔
5۔ اللہ کی طرف رجوع کا وقت اور 5 عملی طریقے (Strategies)
رجوع الی اللہ کے لیے کسی خاص عمر کا انتظار کرنا شیطانی وسوسہ ہے۔ بندے کو ہر لمحے اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے اور اس کے پانچ بنیادی مراحل یہ ہیں:
الف) دل کی ندامت و پشیمانی: ماضی کی تمام معصیات اور غفلتوں پر سچے دل سے شرمندہ ہونا۔
ب) گناہ کا فوری خاتمہ: جس غلطی یا معصیت میں انسان مبتلا ہے، اسے بغیر کسی تاخیر کے فوراً چھوڑ دینا۔
ج) آئندہ نہ لوٹنے کا عزم: دل سے یہ پختہ عہد کرنا کہ دوبارہ کبھی اس گناہ کی طرف واپس نہیں پلٹیں گے۔
د) حقوق العباد کی تلافی: اگر کسی انسان کا حق مارا ہے یا دل دکھایا ہے تو معافی مانگ کر اس کا ازالہ کرنا۔
ہ) طاعت اور نیک اعمال کا دوام: فرائضِ دینیہ کی پابندی، ذکرِ الٰہی، اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔
6۔ سچے رجوع الی اللہ کا معائری پیمانہ
عملی زندگی میں سچے رجوع اور باطنی تبدیلی کا معیار یہ ہے کہ:
انسان کے اندر معصیت سے نفرت اور طاعت و عبادت سے لذت پیدا ہو جائے۔
ماضی کی غلطیوں پر فخر کے بجائے عاجزی اور خشوع غالب آ جائے۔
انسان کا رویہ اور اخلاق مخلوقِ خدا کے ساتھ نرم ہو جائے اور وہ فرائض میں سستی نہ کرے۔
7۔ رجوع الی اللہ کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان سچے دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:
گناہوں کا یکسر خاتمہ: سچی توبہ سے بندہ ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا۔
باطنی سکون و اطمینان: روح کا بوجھ اتر جاتا ہے اور قلبی بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔
الٰہی محبت و نصرت: اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والے بندے سے محبت فرماتا ہے اور اس کی تمام مشکلات کو آسان کر دیتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ رجوع الی اللہ انسان کی باطنی روح کی حیات اور آخرت کی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ انسان چاہے گناہوں کی کتنی ہی دلدل میں کیوں نہ گرا ہو، اللہ کی رحمت کا دروازہ ہر لمحہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔ تاخیر کو ختم کر کے آج ہی، اسی لمحے اپنے رب کے حضور جھک جانے میں ہماری سلامتی ہے۔ آئیے! اپنے قلوب کو سچی توبہ اور انابت سے منور کریں اور ایک بابرکت و ایمانی زندگی کا آغاز کریں۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التَّوْبَةَ النَّصُوحَ قَبْلَ الْمَوْتِ، وَالرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَالْمَغْفِرَةَ بَعْدَ الْمَوْتِ۔
اے اللہ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے موت سے پہلے سچی توبہ، موت کے وقت راحت اور موت کے بعد مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
رجوع الی اللہ کا یہ اصلاحی اور روحانی پیغام کسی بھٹکے ہوئے انسان کے لیے ہدایت اور قلبی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
