آخری عشرہ: مغفرت سے نجات تک کا سفر
The last ten days of Ramadan hold immense spiritual significance, offering believers a unique opportunity to seek forgiveness, mercy, and freedom from the Fire. In this article, Dr. Wajid Irshad explains the virtues of the final ten nights of Ramadan in the light of the Qur’an and authentic Hadith. The blog highlights the importance of increased worship, supplication, reflection, and striving to attain Laylat al-Qadr during these blessed nights. It also provides practical guidance on how Muslims can transform these nights into a journey from seeking forgiveness to attaining salvation.
Dr. Wajid Irshad
3/15/20261 min read


آخری عشرہ: مغفرت سے نجات تک کا سفر
ڈاکٹر واجد ارشاد
قسط نمبر: 75
تمہید
رمضان المبارک کا آخری عشرہ نہایت بابرکت اور روحانیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس عشرے کو جہنم سے نجات کا عشرہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی عشرے میں لیلۃ القدر جیسی عظیم رات بھی آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ نبی کریم ﷺ اس عشرے میں عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے، راتوں کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے بیدار کرتے تھے۔ اس لیے مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس قیمتی وقت کو غفلت میں ضائع نہ کرے بلکہ اسے مغفرت اور نجات کے حصول کا ذریعہ بنائے۔
قرآن کی روشنی میں
وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ (الفجر 1-2)
(قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی)
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ (الدخان 3)
(بے شک ہم نے اس قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا، یقیناً ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے ہیں۔)
حدیث کی روشنی میں
عن عائشة رضي الله عنها قالت كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ(صحیح البخاری 2024، صحیح مسلم 1174)
(جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ کمر کس لیتے، رات کو عبادت میں گزارते اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے)
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ(صحیح البخاری 1901، صحیح مسلم 760)
جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ شبِ قدر میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
فقہی آراء اور تجزیہ
اہلِ علم کے نزدیک رمضان کے آخری عشرے کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب بندہ اپنی عبادات کو مزید بڑھا کر اللہ تعالیٰ کے قریب ہو سکتا ہے۔ فقہاء نے اعتکاف کو بھی اسی عشرے کی ایک اہم عبادت قرار دیا ہے، جس کا مقصد دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ اس عشرے میں عبادت کی کثرت، دعا، استغفار اور قرآن کی تلاوت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ درحقیقت یہ عشرہ مومن کے لیے خود احتسابی اور روحانی تجدید کا بہترین موقع ہے۔
عملی پہلو
آخری عشرے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے معمولات میں کچھ تبدیلی لائے۔ راتوں میں قیام، قرآن کی تلاوت، دعا اور استغفار کا اہتمام کرے۔ اگر ممکن ہو تو اعتکاف کرے یا کم از کم مسجد اور عبادت کے ساتھ زیادہ وقت گزارے۔ اسی طرح صدقہ و خیرات اور ضرورت مندوں کی مدد بھی اس عشرے کے اہم اعمال میں شامل ہے۔ اس طرح انسان نہ صرف اپنی مغفرت کا سامان کرتا ہے بلکہ اللہ کی رضا بھی حاصل کرتا ہے۔
دعا
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا فِي هَذِهِ اللَّيَالِي مِنَ الْمَغْفُورِ لَهُمْ وَالْمَقْبُولِينَ، وَأَعِذْنَا مِنَ النَّارِ، وَوَفِّقْنَا لِإِدْرَاكِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَقِيَامِهَا۔
اے اللہ! ہمیں ان راتوں میں بخشے ہوئے اور قبول کیے ہوئے لوگوں میں شامل فرما، ہمیں جہنم سے نجات عطا فرما اور ہمیں شبِ قدر پانے اور اس میں عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔