آخرت کو نظر انداز کرنے کی وجوہات

Ignoring the Hereafter is a major cause of spiritual negligence. آخرت کو نظر انداز کرنے کی وجوہات When a person becomes overly attached to worldly life, he forgets accountability and preparation for the next life. Islam constantly reminds believers of death and the temporary nature of this world. A mindful believer reflects on his actions daily and prioritizes deeds that benefit the Hereafter. Awareness of accountability brings discipline, sincerity, and balance in life.

Dr. Wajid Irshad

5/17/20261 min read

آخرت کو نظر انداز کرنے کی وجوہات
قسط نمبر 137
ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید
انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ قریب کی چیزوں کو بڑا اور دور کی حقیقتوں کو چھوٹا سمجھ لیتا ہے۔ دنیا سامنے ہوتی ہے اس لیے اس کی فکر غالب رہتی ہے، جبکہ آخرت غیب ہے اس لیے وہ اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔ حالانکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیا اس کی تیاری کا مرحلہ ہے۔

مرکزی نکتہ
آخرت کو بھول جانا دراصل دنیا کی محبت اور غفلت کا نتیجہ ہے، جبکہ آخرت کی یاد ہی انسان کی زندگی کو درست سمت دیتی ہے۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں

ارشاد باری تعالیٰ
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔
سورۃ الاعلیٰ 16-17

ارشاد باری تعالیٰ
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ۝ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ
نہیں! بلکہ تم جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔
سورۃ القیامہ 20-21

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ
مَا لِي وَلِلدُّنْيَا إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا
میرا اور دنیا کا تعلق ایسے ہے جیسے ایک مسافر جو درخت کے نیچے سایہ لے پھر آگے چل دے۔
سنن ترمذی 2377
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا عارضی ہے اور اصل منزل آخرت ہے، اس لیے انسان کو دنیا میں دل نہیں لگانا چاہیے بلکہ اسے سفر سمجھنا چاہیے۔

فرمان نبوی ﷺ
أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ
لذتوں کو ختم کرنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔
سنن ترمذی 2307، صحیح
یہ حدیث اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ موت کی یاد انسان کو غفلت سے نکالتی ہے اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

واقعہ

نبی کریم ﷺ ایک دن ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے جس کے کان چھوٹے تھے، آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا: تم میں سے کون اسے ایک درہم میں خریدنا پسند کرے گا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم اسے کسی قیمت پر بھی لینا پسند نہیں کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
صحیح مسلم 2957

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کی حقیقت بہت معمولی ہے، لیکن انسان اسی میں کھو کر آخرت کو بھول جاتا ہے۔

آخرت کو نظر انداز کرنے کی وجوہات

دنیا کی محبت اور اس کی مصروفیات
لمبی امیدیں اور مستقبل کی غلط منصوبہ بندی
موت کو دور سمجھنا
گناہوں کی کثرت اور عادت
ماحول میں آخرت کی فکر کی کمی
دل کی سختی اور غفلت

روحانی اثرات

نیکیوں میں سستی
گناہوں سے بے خوفی
عبادات میں بے دلی
مقصدِ زندگی کا بھول جانا
دل کی بے سکونی

اصلاح کے طریقے

موت اور قبر کی یاد
قرآنِ کریم کی تلاوت اور تدبر
نیک لوگوں کی صحبت
روزانہ محاسبۂ نفس
آخرت کے مناظر کا تصور
دعا اور استغفار کی کثرت

عملی رہنمائی

ہر دن اپنے آپ سے سوال کریں: آج آخرت کے لیے کیا کیا؟
دنیا کے کاموں میں اعتدال رکھیں
نماز کو زندگی کی ترجیح بنائیں
گناہوں سے فوری توبہ کی عادت ڈالیں

اختتامیہ

آخرت کو نظر انداز کرنا دراصل اپنی اصل زندگی کو بھول جانا ہے۔ جو شخص آخرت کو یاد رکھتا ہے وہ دنیا میں بھی متوازن رہتا ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوتا ہے۔

دعا

اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَذَكِّرْنَا بِالْآخِرَةِ وَاجْعَلْهَا أَحَبَّ إِلَيْنَا
اے اللہ! دنیا کو ہمارا سب سے بڑا غم نہ بنا اور ہمیں آخرت کی یاد عطا فرما اور اسے ہمارے لیے زیادہ محبوب بنا دے۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقۂ جاریہ ہے، اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.